تازہ ترین

بیر۔ لذیذ و خوش ذائقہ پھل

بیر بہت لذیذ اور خوش ذائقہ پھل ہے۔اس کی تین بڑی اقسام ہیں۔پیوندی بیر:یہ بیر سائز اور وزن کے اعتبار سے بیر کی دوسری اقسام کے مقابلے میں بڑے ہوتے ہیں۔ان کی شکل لمبوتری ہوتی ہے۔یہ ایک سے دو انچ تک لمبے ہوتے ہیں۔ان کا گودا سفید رنگ کا ہوتا ہے۔یہ بیر کھانے میں لذیذ اور میٹھے ہوتے ہیں۔تخمی بیر:تخمی بیر گول ہوتے ہیں۔انھیں کاٹھے بیر بھی کہا جاتا ہے۔
ان کا رنگ سرخ اور ان میں گودا کم ہوتا ہے۔ذائقے کے لحاظ سے یہ کھٹ مٹھے ہوتے ہیں۔جنگلی بیر:انھیں جھڑبیری یا کوکنی بیر بھی کہا جاتا ہے۔جھڑبیری کے بیر درختوں کے بجائے چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں پر لگتے ہیں۔ان جھاڑیوں میں پتے کم اور کانٹے زیادہ ہوتے ہیں۔یہ جھاڑیاں زیادہ تر بنجر زمین پر اُگتی ہیں۔ان بیروں کا ذائقہ کھٹا ہوتا ہے۔
ان کا سائز بہت چھوٹا اور ان کا رنگ زرد یا سرخ ہوتا ہے۔غذائیت کے لحاظ سے پیوندی بیر نہایت اعلیٰ شمار ہوتاہے۔اس بیر میں لحمیات (پروٹینز)،شکر اور ریشے دار قبض کشا پھوک والے مادے کے علاوہ فاسفورس،سوڈیئم،حیاتین الف،حیاتین ب اور ج(وٹامنز اے،بی اور سی)پائی جاتی ہیں۔تخمی بیر اور جنگلی بیر دیر میں ہضم ہوتے ہیں اور گلے کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں،جب کہ پیوندی بیر غذائیت اور توانائی فراہم کرتے ہیں۔
بیر ہمارے جسم کے لئے کئی لحاظ سے مفید ہیں۔ اس پھل کے چند فائدے ذیل میں درج کیے جا رہے ہیں:
بھوک کی کمی:بھوک کی کمی،کھانا صحیح طرح ہضم نہ ہونا،غذا کی نالی میں جلن اور ریاح کی شکایت آج کل بہت عام ہے۔جن مریضوں کو یہ شکایت رہتی ہو،وہ صبح ناشتہ کرنے کے بجائے ایک ڈیڑھ پا¶ حسب خواہش بیر کھایا کریں۔چند دنوں میں نظام ہضم کی تمام شکایات ختم ہو جائیں گی اور بھوک بھی خوب کھل کر لگے گی۔
اس ناشتے سے آنتوں کے کیڑے بھی ہلاک ہو کر خارج ہو جاتے ہیں۔
مروڑ اور پیچش:جن افراد کو شدید مروڑ ہوتی ہو اور پیچش کی شکایت بھی لاحق ہو،وہ سوکھے بیر کی گٹھلی نکال کر صرف چھلکے کو باریک پیس لیں۔ اس کے بعد تقریباً 125 گرام پانی میں حسب ذائقہ شکر ملا کر پی جائیں۔صبح و شام اس ترکیب پر عمل کرنے سے چند روز میں ہی افاقہ ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ جھڑبیری،یعنی جنگلی بیری کی جڑ بھی اس مقصد کے لئے مفید ہے۔جھڑبیری کی جڑ 12 گرام اور کالی مرچ سات عدد پانی میں گھوٹ کر دن میں تین بار پینے سے پیچش کی شکایت ختم ہو جاتی ہے۔
غذا کا ہضم نہ ہونا:اگر غذا بالکل ہضم نہ ہوتی ہو اور دستوں کی راہ نکل جاتی ہو تو بیروں کا سفوف 60 گرام،ایک بڑی الائچی اور 6 گرام سفید زیرہ توے پر ہلکی آنچ پر بھون کر سب چیزوں کو اچھی طرح ملا لیں۔
دن میں دو یا تین بار ایک چمچہ سفوف پانی میں حل کرکے شکر ملا کر پییں۔اس کے پینے سے آنتیں غذا کو اچھی طرح ہضم کرنے لگتے ہیں۔
دائمی قبض:جن مریضوں میں قبض کی شکایت بہت عرصے سے ہو،انھیں دائمی قبض کا مریض کہا جاتا ہے۔قبض کی وجہ سے آنتوں میں خشکی اور تیزابیت پیدا ہو جاتی ہے،اسی لئے قبض کو اُم الامراض کہا جاتا ہے۔
قبض ختم کرنے کے لئے بڑے سائز کے میٹھے بیروں کا گودا اور چھلکا موٹا موٹا پیس کر پانی یا دہی کو پتلی لسی کے ساتھ 15 سے 50 گرام تک صبح ناشتے سے قبل کھائیں۔اس سے تیزابیت کم ہو جائے گی اور قبض ختم ہو جائے گا۔بیری کے درخت کی پتیاں پیس کر اُن کا نیم گرم لیپ زخموں اور ورم پر باندھنے سے پیپ خارج ہو جاتی ہے۔بیر آنتوں کی خشکی کو دور کرتے ہیں اور آنتوں کے زخم کو بہت جلد مندمل کر دیتے ہیں۔
اعصابی کمزوری اور تھکن:اعصابی کمزوری کی وجہ سے جلد تھک جانا،بھوک کم ہونا اور جوڑوں کے درد کی شکایت میں بیری کے درخت کی جڑ بہت مفید ہے۔اس کی جڑ دھو کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لیں۔ان جڑوں کے ٹکڑے تقریباً 100 گرام کی مقدار میں لے کر 750 گرام پانی میں رات بھر بھگوئے رکھیں۔صبح اتنا جوش دیں کہ صرف ایک پیالہ پانی رہ جائے۔
اب اسے چھان کر اس میں حسب ذائقہ شکر ملا کر دودھ کے ساتھ پییں۔چند دنوں میں اعصابی تکان اور جوڑوں کے درد کی شکایت ختم ہو جائے گی۔
بچوں کے دست:دودھ پیتے بچوں کو جب رنگ برنگے دست آنے لگیں اور بے چینی اور پیاس کی شکایت بھی ہو تو 3 سے 11 دانے سوکھے بیر پانی یا سونف کے عرق میں بھگو دیں۔رات بھر بھگونے کے بعد صبح انھیں دونوں ہاتھوں سے رگڑ کر پانی نتھار لیں اور تھوڑی سی شکر ملا کر یہ پانی چمچے کی مدد سے ایک ایک گھونٹ پلائیں۔
اس سے دست اور قے کی شکایت ختم ہو جائے گی۔
خواتین کے لئے:بیر کی پتیوں کو پانی میں جوش دے کر سر دھونے سے بال گرنے کی شکایت ختم ہو جاتی ہے اور بال لمبے اور گھنے ہو جاتے ہیں۔بیری کے درخت کی پتیوں کو خشک کرکے سفوف بنا کر بہ طور ابٹن استعمال کیا جاتا ہے،جس کے استعمال سے رنگ گورا ہو جاتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*