تازہ ترین

بریسٹ کینسر لا علاج نہیں

رانا زاہد اقبال
بریسٹ کینسر پوری دنیا میں خواتین کی صحت کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔پاکستان میں اکٹھی کی گئی محدود معلومات کے مطابق پاکستانی خواتین ایشیاءبھر میں سب سے زیادہ بریسٹ کینسر کے خطرے سے دو چار ہیں۔بریسٹ کینسر مختلف ماحولیاتی اور موروثی عناصر کا مرکب ہے۔نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہونے والی ترقی سے کینسر کے سیل کا بہت قریب سے مشاہدہ ممکن ہوا ہے۔
کینسر سیل کے ڈی این اے کی بناوٹ اور بریسٹ کینسر کی بیالوجی اور جینیٹکس کے تجزئیے سے اس بیماری کو سمجھنے میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔ان جدید سائنسی معلومات کے سبب بریسٹ کینسر کے علاج کے لئے مختلف طریقہ کار متعارف ہوئے ہیں جن سے اس بیماری کے علاج میں کافی بہتری آئی ہے اور مریضوں کی زندگیاں بہتر ہوئی ہیں۔
صرف امریکہ اور یورپ میں 1990ءکے بعد سے اب تک بریسٹ کینسر سے مرنے والی خواتین کی تعداد میں 25 فیصد کمی ہو چکی ہے اور سب کچھ بروقت میمو گرافی،سکریننگ اور جدید طریقہ علاج کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔
نئے طریقہ علاج میں کیمو تھراپی اور جدید ٹارگٹ تھراپی شامل ہیں۔بریسٹ کینسر کے علاج میں متعارف ہونے والے نئے طریقوں سے اس بیماری سے ہونے والی اموات میں قابل ذکر کمی تو آئی ہے لیکن اس بیماری کے لاحق ہونے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لئے مسلسل تحقیق جاری ہے۔پھر بھی کچھ خطرات ایسے ہیں جن کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔جیسے جیسے عورت کی عمر بڑھتی ہے اس کو بریسٹ کینسر ہونے کا خطرہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔
اسی طرح مخصوص ایام کا بہت جلد شروع ہونا یا مینو پاز دیر سے آنے ہونے سے بھی بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ بے اولاد خواتین اور 30 سال کی عمر کے بعد پہلی زچگی ہونا بھی اس بیماری کے ہونے کا خطرہ ہو سکتی ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق موٹاپا بریسٹ کینسر کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے اور خاص طور پر وہ خواتین جو مینو پاز سے کچھ عرصہ قبل موٹی ہو جاتی ہیں۔
زیادہ چکنائی والی غذائیں بھی بریسٹ کینسر کا موجب ہوتی ہیں اس لئے بہتر ہے کہ غذا میں سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں۔موروثی طور پر بریسٹ کینسر کی شکایت کا تناسب تمام بریسٹ کینسرز کا 25 فیصد ہے۔ایسی خواتین جن کے خاندان میں خصوصاً ماں،بہن،خالہ وغیرہ کو یہ بیماری لاحق ہو چکی ہو اُن کو بہت محتاط رہنا چاہئے کیونکہ ان کو بریسٹ کینسر ہونے کا شدید خطرہ رہتا ہے۔
ہمارے نظام صحت میں ایک بدترین خرابی یہ بھی ہے کہ یہاں مرض کی تشخیص کو سرے سے اہمیت ہی نہیں دی جاتی ہے،جب کہ ترقی یافتہ ملکوں میں علاج اس وقت تک شروع نہیں کیا جاتا جب تک مرض کی تشخیص نہ ہو جائے۔اس طریقہ کار کی وجہ سے مریض جلد شفا حاصل کر لیتا ہے بلکہ غیر ضروری اخراجات اور غیر ضروری پریشانیوں سے بچ جاتا ہے۔ان حالات میں شوکت خانم ہسپتال کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لئے غریبوں کو جدید اور مفت طبی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔
جہاں بیماری کی تشخیص جدید مشینوں پر کی جاتی ہے اور اس میں نہ تو امیر کو کوئی فوقیت حاصل ہے اور نہ ہی غریب کو دھکے کھانے پڑتے ہیں یعنی یہ فائیو سٹار سہولتوں والا ہسپتال تمام طبقات کو یکساں نوعیت کی علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔شوکت خانم ہسپتال اپنی بساط کے مطابق قابل علاج مرض کو ناقابل علاج بننے سے روکنے میں مددگار ہو رہا ہے۔
بلاشبہ ایسے ادارے قابل تحسین کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں۔کینسر ایک ایسی بیماری ہے جو لاحق ہو جائے تو اس سے ایک تو انسان دہشت کا شکار ہو جاتا ہے دوسرا اس کا علاج بہت مہنگا ہے جس کے اخراجات برداشت کرنا ہر ایک کے بس کا روگ نہیں ہے۔پاکستان میں کچھ عرصہ قبل تک اگر کسی کو کینسر لاحق ہو جاتا تھا تو و ہ زندگی سے مایوس ہو جاتا تھا لیکن شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جس میں کینسر کے مریضوں کا علاج ترقی یافتہ ممالک کے ہسپتالوں میں مروجہ اصولوں اور طریقہ کار کے مطابق ہی کیا جاتا ہے۔
اس کے قیام کے بعد لوگوں میں یقین پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے کہ کینسر کا علاج ممکن ہے۔مزید بہتر علاج کے لئے ریسرچ کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کام کے لئے کثیر سرمایہ درکار ہوتا ہے۔شوکت خانم کینسر ہسپتال اپنے وسائل کے مطابق کینسر پر تحقیق کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے خاطر خواہ کامیابی بھی ہوئی ہے۔شوکت خانم ہسپتال میں تشخیص اور علاج کے لئے بالغ مریضوں میں سب سے زیادہ تعداد بریسٹ کینسر کے مریضوں کی ہوتی ہے۔
ہمارے ملک کی کچھ غلط روایات کی وجہ سے بریسٹ کینسر کی مریضہ اپنے مرض کو چھپاتی ہے اور کچھ تو علاج نہیں کرواتیں یا ان کو علاج کے لئے اس وقت لایا جاتا ہے جب مرض کافی بڑھ چکا ہوتا ہے۔کینسر لا علاج نہیں اگر اس کی تشخیص اور علاج بروقت ہو جائے۔عالمی سطح پر کی گئیں نئی تحقیقات کے سبب کچھ نئی ادویات اور تھراپی متعارف ہوئی ہیں جو کہ بریسٹ کینسر کی ابتدائی سٹیج کے ساتھ ساتھ تیسری اور چوتھی سٹیج میں مبتلا مریضوں کے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں اور ان کی متوقع زندگی میں کافی بہتری نظر آئی ہے، اگرچہ یہ ادویات کافی مہنگی ہیں۔
ہسپتال نے علاج کے ساتھ ساتھ کینسر کے حوالے سے آگہی مہم بھی بڑے زور و شور سے شروع کر رکھی ہے جس سے عوام میں کینسر اور خصوصاً بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*