تازہ ترین

اپوزیشن کی اسٹیٹ بینک بارے صداری آرڈیننس پر حکومت پر تنقید

اسلام آباد (این این آئی) اپوزیشن نے ایک بار پھر اسٹیٹ بینک کے حوالے سے جاری صداری آرڈیننس پر حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے معاملہ عدلیہ میں لے جانے کا عندیہ دیدیا ہے ۔ بدھ کو فیض اللہ کاموکا کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ اجلاس میں تمام ممبران نہیں اس لئے اسٹیٹ بینک خود مختاری بل پر غور آئندہ اجلاس تک مو¿خر کر دیا جائے ۔ سیکرٹری خزانہ کامران علی افضل نے کہاکہ اسٹیٹ بینک کے بل پر کچھ پہلو ابھی سامنے نہیں آئے ،یہ قانون ہے آرڈینس نہیں ہے،بل ابھی تک قومی اسمبلی میں داخل نہیں کیا گیا۔ سیکرٹری خزانہ نے کہاکہ بل کو وفاقی کابینہ نے منظور کر لیا ہے ، بل کی منظوری قومی اسمبلی نے دینا ہے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ بل جب کابینہ نے منظور کر دیا تو کمیٹی بل پر غور کر سکتی ہے۔ کمیٹی چیئرمین نے کہاکہ کچھ ممبران نے درخواست کی ہے اس لیے بل پر آئندہ اجلاس میں غور کریں گے ۔ وزارت قانون نے کہا کہ صدر مملکت منی میڑز پر آڈرنیس جاری کر سکتے ہیں ،ماضی میں 17 کے قریب منی بل پر آرڈینس جاری کیے گئے ۔احسن اقبال نے کہاکہ میں نے اسپیکر قومی اسمبلی کو اس معاملے پر خط لکھا ہے ، اس خط کو اس کا حصہ بنایا جائے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ بغیر نمائندگی کیلئے ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا ، گزشتہ تین سالوں میں 50 آڈرنیس جاری کیے گئے ۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ سال 30 آرڈیننس جاری کیے گئے ،آرڈنینس جاری کرنے سے قومی اسمبلی کی قانون سازی کا استحقاق مجروح ہوتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس صورت حال میں مستقبل میں کوئی حکومت بغیر پارلیمان کی منظوری کے بجٹ آرڈینس کے زریعے جاری کر دیدی ۔ انہوںنے کہاکہ اس حکومت نے 700 ارب روپے کے ٹیکس بغیر پارلیمان کی منظوری کے نافذ کر دی ۔ احسن اقبال نے کہاکہ مالی معاملات میں پارلیمنٹ کی نگرانی کو زیادہ موثر بنایا جائے ۔ سید نوید قمر نے کہاکہ حکومت نے آرڈینس کے زریعے لاتعداد ٹیکس عائد کر دیئے ، حکومت نے یہ کام آئی ایم ایف کے دباو¿ میں کیا اور پارلیمنٹ کو بائی پاس کیا ۔ انہوںنے کہاکہ یہ پارلیمنٹ کا کام تھا کہ وہ نئے ٹیکسوں پر غور کرے ، یہ معاملہ اب عدالت میں جائے گا ۔ انہوںنے کہاکہ اس طرح کے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے ، اسپیکر قومی اسمبلی کو آئین کی عملداری کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں ۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ ماضی میں جو منی بل آرڈینس کے زریعے نافذ ہوئے کیا وہ غیر قانونی تھے ۔ سید نوید قمر نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد حالات تبدیل ہو چکے۔ امجد نیازی نے کہاکہ اگر سب کو اس بات کا یقین ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے تواس پر وزارت قانون سے رائے لی جائے ۔ علی پرویز ملک نے کہاکہ کیا کورونا کی تیسری لہر میں حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ آرڈینس کے زریعے لانے پر غور کر رہی ہے۔ احسن اقبال نے کہاکہ اس بندے کو چوکیدار گیٹ پر روک لیتا ہے کو پوچھتا ہے کہ اندر جانے کی اجازت ہے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ وقت کے ساتھ رویوں اور گورننس میں ارتقاءہوتا ہے ،آئین میں پبلک فنانس کا اختیار صرف پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط ہے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ پارلیمنٹ کے اختیارات کی اراکین اسمبلی نے حفاظت کرنا ہے ۔ سیکرٹری خزانہ نے کہاکہ آئین میں لکھا ہے کہ ہر آڈرنیس کی منظوری پارلیمنٹ دے گی ۔ سیکرٹری خزانہ نے کہاکہ اسکی منظوری پارلیمنٹ کا استحقاق ہے وہ موجود ہے ۔سیکرٹری خزانہ نے کہاکہ آرڈینس جاری کرنے کی اجازت آئین میں موجود ہے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ آرڈینس جاری کرنے کا اختیار پارلیمنٹ قانون سازی کر کے ختم کر دے آرڈینس جاری نہیں ہوں گے ،آئین میں لکھا ہے کہ منی میٹرز پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر کوئی قانون سازی نہیں کی جائے گی ۔ سیکرٹری خزانہ نے کہاکہ آئین میں قانون سازی ترامیم اور رواجات سب اراکین اسمبلی نے کرنے ہیں ۔ حنا ربانی کھر نے کہاکہ ماضی میں جتنے بھی قانون جلد میں بنے اور لاگو ہوئے وہ سب دباو¿ کا نتیجہ تھے ، بابر اعوان صاحب کا آڈرنیس کی حمایت کا موقف تو آنا تھا ۔ حناربانی کھر نے کہاکہ وہ پیپلز پارٹی کے وزیر قانون ریے اور انکو معلوم ہے کہ کتنے آرڈنینس جاری ہوئے ، منی بل کی آرڈینس کے زریعے نفاذ پر اسپیکر صاحب کو معاملہ حکومت کے ساتھ اٹھانا چاہیے ۔ فہیم خان نے کہاکہ کچھ شیکایات ہے کہ ایرانی تیل دوسرے ممالک کا ظاہر کر کے درآمد ہو رہا ہے ۔ممبر کسٹمز طارق ہدا نے کہاکہ امریکی پابندیوں کے بعد ایران سے تجارت کرنا بند ہو گیا ، ایک جہاز پر ایرانی تیل کی موجودگی کی اطلاع ملی ،قانون کے تحت ایرانی تیل کو ضبط نہیں کر سکتے ۔ کسٹمز حکام نے بتایاکہ جولائی سے پہلے تیل والے جہاز کی تیل بھرنے کے مقام کی نشاندھی ضروری نہیں تھی ۔ کسٹمز حکام نے بتایا کہ ایک جہاز کو شیکایات ہر روکا گیا ،اس کے تیل کے ٹیسٹ کروایا گیا ۔کسٹمز حکام کے مطابق سرکاری ادارے ہائیڈرو کاربن ڈیویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ نے تیل کو عمان کا قرار دیا ۔ ممبر کسٹمز طارق ہدا نے کہاکہ ایرانی تیل کسٹمز امپورٹ آڈر کے تحت درآمد کرنے پر پابندی نہیں ۔فہیم خان نے کہاکہ کوئی لیب یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ تیل کس ملک کا ہے ۔ فیض اللہ کامو کا نے کہاکہ مس ڈیکلریشن پر کاروائی کی جا سکتی ہے ۔ ممبر کسٹمز کے مطابق مس ڈیکلریشن پر کاروائی کی جاتی ہے ، ایرانی تیل پر امریکی پابندیاں عائد ہیں ۔ طارق ہدا نے کہاکہ ایران سے تجارت پر امریکہ اس ملک کے خلاف بابندیاں عائد کر سکتا ہے ۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ ملک میں ایرانی تیل کی فروخت ممنوع ہے ،ایرانی تیل کی بحری جہاز سے درآمد ہو رہی ہے ۔ ممبر کسٹمز کے مطابق پورٹ پر ایرانی تیل کی سمگلنگ نہیں ہو رہی ،جو شکایت ملی اسکا لیب ٹیسٹ کروایا گیا جو ایرانی تیل ثابت نہیں ہوا ۔ کسٹمز حکام کے مطابق گوادر میں پہلی صنعتی درآمد آ گئی۔ فہیم خان نے کہاکہ کسٹمز کلیکٹر نے کہا کہ لیب ٹیسٹ میں ایرانی تیل ثابت نہیں ہوا ،ان دو جہازوں کی تمام دستاویزات منگوائی جائیں تاکہ معاملے کے تحت پر پہنچیں ۔ فہیم خان نے کہاکہ اس معاملے کی تحقیقات کسٹمز کی بجائے ایف آئی اے کے سپرد کی جائیں، فہیم خان نے کہاکہ اگر ایرانی تیل کی درآمد پر پابندی نہیں تو پھر کیوں امریکی پابندیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*