تازہ ترین

اپوزیشن نے وفاقی بجٹ کو غریب دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا

اسلام آباد(آئی این پی) اپوزیشن نے وفاقی بجٹ کو ناکام ترین اور غریب دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، اپوززیشن رہنماﺅں نے کہا ہے کہ اعداد وشمار کے گورکھ دھندے میں ہمیں پھنسانے کی کوشش کی گئی، حکومت کے اعداداشمار پر یقین نہیں کیاجا سکتا، حکومت نے اپنی معاشی ناکامیوں کا سارا ملبہ کورونا پر ڈالنے کی کوشش کی، معیشت مارچ میں کورونا سے پہلے تباہی اور بربادی کا شکار ہو چکی تھی، ذمہ داری کورونا پر ڈالنا قطعی طور پر غلط اور جھوٹ ہے، حکومت نے اپنا بوجھ گزشتہ حکومتوں پر ڈالنے کی کوشش کی، اس حکومت نے ایک سال میں 3،3 بجٹ پیش کیئے اور نئے نئے ٹیکسز بھی لگاتے رہے ، اور اپنے ہی ہدف کو پورا نہیں کر سکے،اس حکومت نے ویسے ہی معیشت کو تباہ کر دیا ہے ،پچھلے بجٹ میں جو وعدے کیئے گئے تھے ان میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہواعوام کے پاس آٹا، چینی اور پیٹرول نہیں ہے اور یہی انکی 2 سالہ کارکردگی ہے، ان خیالات کا اظہار جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماﺅں خواجہ آصف ، راناثناءاللہ خان ، مولانا اسعد محمود اور عبدالقادر پٹیل نے کیا ۔پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے ڈی چوک پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماءخواجہ آصف نے کہا کہ حکومت نے اپنی معاشی ناکامیوں کا سارا ملبہ کورونا پر ڈالنے کی کوشش کی ، دو اڑھائی مہینے پہلے مارچ میں کورونا آیا، کورونا کو بہانہ بنا کر ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ، بجٹ پر تفصیلی ردعمل پیر کو دیں گے، خواجہ آصف نے کہا نے کہا کہ حکومت کے اعدادوشمار پر یقین نہیں کیاجا سکتا ، انہوں نے پچھلے بجٹ میں کیا ٹیکس کا ہدف مقرر کیا؟ اور کتنا جمع کیا ؟اور دو مرتبہ نظر ثانی کی ، مارچ میں مہنگائی گیارہ فیصد تھی ، معیشت مارچ میں کورونا سے پہلے تباہی اور بربادی کا شکار ہو چکی تھی ذمہ داری کورونا پر ڈالنا قطعی طور پر غلط اور جھوٹ ہے ،40لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے تھے، اب اس میں اور اضافہ ہو رہا ہے، یہ اعداد وشمار کے گورکھ دھندے میں ہمیں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے ، خواجہ آصف نے کہا کہ تیس فیصد قرضہ ملک کا بڑھا ہے ، ہم نے پانچ سال میں جتنا قرضہ لیا تھا انہوں نے دو سال میں لیا ہے، ہماری کارکردگی کو ساری دنیا اور پاکستان کی عوام تسلیم کرتی ہے، خواجہ آصف نے کہا کہ جو وعدہ معاف گواہ بن سکتا تھا اس جہانگیر ترین کو باہر بھگا دیااور وہ وعدہ معاف گواہ بننے گا ، خواجہ آصف نے کہا کہ ایوان میں جھوٹ بولا گیا ہے، یہ کہتے تھے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، اسحاق ڈار نے ہمیں آئی ایم ایف کے چنگل سے آزاد کرایا، خواجہ آصف نے کہا کہ ناکام ترین بجٹ ہے ، جھانسہ پچھلے سال بھی دیا گیا تھا ۔جے یو آئی (ف) کے رہنماءمولانا اسعد محمود نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ جی ڈی پی کو منفی اعشاریہ صفر چار پر لے کر آگئے ہیں،جو ٹیکس اکٹھے کیئے جانے تھے اس میں تقریبا 900 ارب کا خسارہ آ رہا ہے ،اپوزیشن اراکین کو بجٹ کی کاپیاں تک فراہم نہیں کی گئیں، حکومت نے اپنا بوجھ گزشتہ حکومتوں پر ڈالنے کی کوشش کی، اس حکومت نے ایک سال میں 3،3 بجٹ پیش کیئے اور نئے نئے ٹیکسز بھی لگاتے رہے ، اور اپنے ہی ہدف کو پورا نہیں کر سکے، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماءعبد القادر پٹیل نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تباہی کا سارا ملبہ کورونا پر ڈال رہی ہے، پہلے ہی کہا تھا کورونا کا بہانہ نہیں بنانا ،اس حکومت نے ویسے ہی معیشت کو تباہ کر دیا ہے ،پچھلے بجٹ میں جو وعدے کیئے گئے تھے ان میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا،عوام کے پاس آٹا، چینی اور پیٹرول نہیں ہے اور یہی انکی 2 سالہ کارکردگی ہے ، اس سے برا بجٹ تاریخ میں نہیں آیا ہوگا،مسلم لیگ ن کے رہنماء رانا ثناءاللہ خان نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ معیشت تباہ ہو چکی ہے ،یہ ایسا بجٹ ہے جس کو اپوزیشن مسترد کرتی ہے،یہ بجٹ غریب دشمن بجٹ ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*