تازہ ترین

الرجی کیا ہے؟

بارہ سالہ عبداللہ جب بھی سردی کے موسم میں گھر سے باہر نکلتا تو اس کا گلا خراب ہو جاتا اور وہ بھی اتنی بُری طرح کہ سانس لینا مشکل ہو جاتا،اس کا دم گھٹنے لگتا اور کھانسی شروع ہو جاتی،لیکن جب وہ گھر واپس آتا تو اس کی کھانسی رک جاتی۔عبداللہ کو اسپتال میں الرجی(حساسیت) کے ایک ماہر کو دکھایا گیا،جس نے یہ تشخیص کی کہ اس پر سردی کی وجہ سے دمے کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
اس نے کہا کہ اس کیفیت کو ختم کرنے کا کوئی جادوئی اثر علاج تو نہیں ہے،لیکن وہ عبداللہ کو ایسی دوا کھانے کو دے رہا ہے،جس سے اسے کچھ آرام مل جائے گا۔ماہر کی ہدایت کے مطابق عبداللہ گھر سے باہر جانے سے پہلے دوا کھا لیتا اور اپنا منہ اور ناک رومال سے اچھی طرح ڈھانپ لیتا اور دستانے پہن لیتا۔
عبداللہ کی طرح بہت سارے لوگ ہیں،جو سردی کے موسم میں الرجی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ایسی الرجی جس کا تعلق موسم سرما سے ہوتا ہے،وہ درج ذیل عوامل کے سبب پیدا ہوتی ہے یا شدت اختیار کر لیتی ہے۔
کم درجہ حرارت:بہت سے لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ انھیں ٹھنڈ سے الرجی ہے،جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل میں انھیں ٹھنڈ سے الرجی نہیں ہوتی،بلکہ اُس سے ان کی الرجی کو تحریک ملتی ہے اور اس تحریک کی وجہ سے مختلف حسی ردعمل ظاہر ہوتے ہیں،مثلاً پتی اُچھلنے اور سانس کی تکالیف وغیرہ۔اس کا علاج عام طور پر ماہرین ایسی ادویہ سے کرتے ہیں،جو اس ردعمل کو روک سکیں یا اس کی شدت کو کم کر سکیں۔
خشک ہوا:زیادہ سرد موسم میں ایک مسئلہ یہ پیش آتا ہے کہ خشک ہوا کی وجہ سے الرجی کی علامات میں شدت آجاتی ہے،خصوصاً ایسے مریضوں میں جنھیں گرد و غبار،دھول مٹی،پھپوندی یا ایسی نوعیت کی گھریلو چیزوں سے الرجی ہوتی ہے۔
اس سلسلے میں نمی پیدا کرنے والے آلات یا نظام تقطیر (فلٹر سسٹم)سے مدد لی جا سکتی ہے۔اس قسم کی الرجی کے مریض کو ضدحیوی ادویہ(اینٹی بائیوٹکس)دی جاتی ہیں۔اکثر معاملات میں حسی ردعمل بھی شدید ہو سکتا ہے اور یہ مسئلہ شدت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ایسے مریض بھی دیکھنے میں آتے ہیں،جو مختلف قسم کی ادویہ کھانے کے باعث الرجی میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور یہ نوبت آجاتی ہے کہ ان کے لئے ایسی دوا نہیں ملتی،جسے وہ بغیر کسی خطرے کے کھا سکیں۔
مریض کو ضدحیوی دوا کھانے کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور ایسی دوا بھی نہیں مل پاتی،جو بغیر کسی خطرے کے اسے دی جا سکے۔تو پھر ایسے مریض میں حسیت کی کیفیت کو ختم کرنا ہوتا ہے۔یہ عمل اس طرح ہوتا ہے کہ مریض کو دوا کی بہت چھوٹی چھوٹی خوراکیں دی جاتی ہیں،تاکہ اس کا جسم اسے قبول کرنا شروع کر دے یا اس کا عادی ہو جائے اور جب ایسا ہونے لگتا ہے تو پھر رفتہ رفتہ خوراک بڑھائی جاتی ہے۔
سگریٹ کا دھواں:سردی کے موسم میں لوگ کمروں میں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔چنانچہ ان میں سے جو تمباکو نوشی کرتے ہیں،ان کی اس عادت سے کمرے میں دھواں بھر جاتا ہے،جس کی وجہ سے بچوں کو سانس کی بیماری اور دوسری قسم کی الرجی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
زرگل:زرگل یا پھول کے زیرے (Pollen) کا ویسے تو موسم سرما کی الرجی سے کچھ خاص تعلق نہیں ہوتا،لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ جاڑے میں زرگل ہوا میں بالکل ہی نہ ہو۔
جنوری کے آخری دنوں میں ہوا میں اتنا زرگل پایا جاتا ہے،جو زیادہ حساس لوگوں میں ردعمل پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے،تاہم عجیب بات یہ ہے کہ ایسے مریض جو ٹھنڈ سے تحریک پانے والی پتی میں مبتلا ہو جاتے ہیں،ان کے لئے سب سے خطرناک موسم گرمی کا ہوتا ہے،کیونکہ اگر وہ اس موسم میں ٹھنڈے پانی سے نہائیں تو اچانک اس کا شدید ردعمل ہو سکتا ہے۔
علاج:الرجی کا ایک انتہائی آسان اور سستا علاج پیش خدمت ہے۔اللہ تعالیٰ شفا دینے والا ہے۔آپ بھی آزما کر دیکھیے۔گہرے سرخ گودے دار عناب پانچ سے سات دانے پانی میں جوش دے کر پانی پی لیں اور عناب چبا لیں۔یہ پہلوئی اثرات (Side Effects) سے بالکل پاک نسخہ ہے۔یہ نسخہ نزلے زکام کو جمنے اور خشک کرنے سے روکتا اور خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔اگر بچوں کو خسرہ ہو جائے تو خاکسی منقیٰ اور تین سے پانچ دانے عناب کے لے کر ان کا جوشاندہ بنا کر انھیں پلائیے،انشاءاللہ تعالیٰ آرام آجائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*